بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ "امریکہ زوال" کا تیسرا بین الاقوامی سیمینار اکتوبر کے مہینے میں، چھ آبان 1404 میں، "دنیا کا نیا دور" کے عنوان سے تہران میں منعقد ہؤا۔ جس میں اندرونی اور بین الاقوامی یونیورسٹیوں اور تحقیقاتی مراکز نے شرکت کی اور اندرونی اور غیر ملکی محققین، پروفیسروں نے خطاب کیا اور امریکہ کے سابق سفارت خانے میں ویڈیو کانفرنس کے ذریعے بھی کئی فعال کارکنوں اور ماہرین نے بھی اس سیمینار کی ایک نشست میں تقاریر کیں۔
فعال امریکی کارکن، سینڈر ہکس (Sander Hicks)، جو اس کانفرنس کے مقرر ہیں، نے کہا:
۔۔۔ ان سب باتوں کے باوجود، ٹرمپ انتظامیہ کو جعلی سونے کی کلاسیکی سرمایہ داری کو نئے اقتصادی متبادلات میں منتقل کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ موجودہ انتظامیہ، اخلاقی اور روحانی معیارات کے بے مثال انہدام کا عملی نمونہ ہے۔ ٹرمپ جیفری ایپسٹین کے گہرے دوست تھے؛ جو ایک ثابت شدہ مجرم اور جنسی اسمگلر تھا اور جس وقت ٹرمپ برسر اقتدار تھے؛ ایپسٹین نیویارک کی جیل میں پراسرار طور پر مر گیا۔ صدر ٹرمپ کے کاروبار، اس وقت، غیر ملکی حکومتوں سے منسلک ہیں۔ یہ اقدامات، بڑے پیمانے پر، ہمارے آئین میں "بینفٹ کلاز" کی خلاف ورزی سمجھے جاتے ہیں۔ ٹرمپ نے بعد میں، 2025 میں، ایک ذاتی کرپٹو کرنسی جاری کی اور اس سے تقریباً ایک ارب ڈالر کما کر اپنے ان غیر قانونی اقدامات کو آگے بڑھایا؛ ایک ایسی کرنسی کے ذریعے جسے انھوں نے خود (Bitcoin کی شکل میں)، چار سال پہلے "ڈالر کے خلاف دھوکہ دہی (Scam against Dollar)" قرار دیا تھا۔ کسی بھی صدر نے پہلے کبھی اس طرح سرکاری طاقت کے استعمال کو ذاتی سرمایہ کاری کی تشہیر کے ساتھ نتھی نہیں کیا۔
ٹرمپ نے انتہائی لاپروائی سے فوجی طاقت کا استعمال کیا ہے۔ جون 2025 میں، جیسا کہ آپ جانتے ہیں، اس نے ایران کے جوہری تنصیبات: فردو، نطنز، اصفہان پر براہ راست حملوں کا حکم دیا۔ اس دوران میں جسے "12 روزہ جنگ" کا نام دیا گیا۔ انھوں نے کانگریس کی واضح اجازت کے بغیر، بنکر بسٹر بم اور ٹاماہاک میزائل استعمال کرکے، علاقائی عدم استحکام کے اسباب فراہم کئے اور عالمی جنگ کا خطرہ پیدا کر دیا۔ 2020 میں بھی ایران کے قومی ہیرو جنرل قاسم سلیمانی، کے غیر قانونی قتل کے ذریعے انھوں نے بالکل ایسا ہی خطرہ پیدا کیا تھا۔ اس کا JCPOA (جوہری معاہدے) سے نکلنا ایک تزویراتی تباہی تھی اور اس اقدام نے تہران کی نظر میں، دستخط شدہ معاہدوں کی پابندی کرنے میں ہمارے ملک کی ساکھ کو نقصان پہنچایا۔
ٹرمپ نوبل امن انعام کی شہوت میں مبتلا ہیں: واحد چیز جو ان کے پاس نہیں ہے؛ اور واحد چیز جسے وہ خرید نہیں سکتے۔ لیکن اسی حال میں وہ بین الاقوامی پانیوں میں وینزویلا کی چھوٹی کشتیوں پر بمباری کرتے ہیں اور بغیر کوئی ثبوت پیش کیے، دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ منشیات کی سمگلنگ کر رہی تھیں۔ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ لوگ سمگلر گینگ کے ارکان تھے، جبکہ وینزویلا کہتا ہے کہ ایسا نہیں ہے۔ جیسا کہ آپ کو یقیناً معلوم ہے، مشتبہ افراد کو مقدمے کے بغیر قتل کرنا جنگی جرم ہے۔ نوبل انعام کمیٹی اس بارے میں مجھ سے اتفاق کرے گی؛ جو کوئی بھی بین الاقوامی قانون سے ذرا بھی واقف ہو وہ بھی ایسا ہی کرے گا۔ [واضح رہے کہ چھوٹی کشتیوں پر بمباریوں کے بعد ٹرمپ نے وینزویلا پر ہلہ بول دیا، صدر مادورو کے قریبی جرنیلوں اور محافظوں کو قتل کیا اور صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کو اغوا کرکے نیویارک پہنچایا۔۔۔]
ٹرمپ کو اپنی پوری زندگی میں کبھی بھی دین و مذہب میں کبھی کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ اس کے باوجود، وہ عیسائی-صہیونی قدامت پسندوں کی حمایت سے اسرائیل کی حمایت کرتا ہے۔ یہ معاملہ غزہ میں اسرائیل کے ہاتھوں فلسطینیوں کی نسل کشی کے لئے امریکی حمایت کا سبب بنا ہے [اگرچہ ایپسٹین جیسوں کی بلیک میلنگ بھی کافی مؤثر ہے]؛ ٹرمپ کسی ہچکچاہٹ یا اس نسل کشی کے علاقائی نتائج پر توجہ دیے بغیر اس نسل کشی کی حمایت کرتے ہیں۔ ٹرمپ نے امریکہ کے بین الاقوامی اخلاقی مقام پر ایک نہ مٹنے والا دھبہ چھوڑا ہے؛ جبکہ انجیل کا کہنا ہے کہ "جو بوؤگے، وہی کاٹو گے۔" بدھ دھرم کہتا ہے کہ "کرما محض سبب اور اثر (علت و معلول یا cause and effect) ہے۔" دنیا آج اس تباہی پر خوف و دہشت کے ساتھ رد عمل دکھا رہی ہے جس کی امریکہ غزہ میں حمایت کر تا ہے۔ ہمارے اقدامات ناقابلِ دفاع ہیں اور بالآخر، خطے میں طاقت کی حرکیات بدل جائیں گی۔ امریکہ کے بڑے اتحادیوں کی طرف سے بھی فلسطینی ریاست کے قیام کی حالیہ حمایت سے ثابت ہوتا ہے کہ عالمی برادری امریکی مرضی سے ما وراء، ایک مختلف سیاسی نتیجہ چاہتی ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی روحانی زندگی بھی سطحی نظر آتی ہے۔ جب ایک انٹرویو میں ان سے پوچھا گیا کہ "بائبل میں اس کا پسندیدہ باب کونسا ہے؟"، تو ان کے پاس دینے کے لئے کوئی جواب نہیں تھا۔ ان کی "عیسائی" شناخت ہمیشہ، ثابت شدہ بنیادی اقدار کی پابندی سے زیادہ ایک پتلے سے سیاسی پردے کی مانند رہی ہے۔ گوکہ لوگ بدل بھی سکتے ہیں۔ ٹرمپ نے، 19 اگست 2025 کو، ٹی وی شو "فاکس اینڈ فرینڈز" سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے، "عاجزانہ انداز" کے ایک "بالکل نایاب لمحے میں"، اعتراف کیا کہ اانہیں شک ہے کہ انہیں جنت میں داخل ہونے دیا جائے گا یا نہیں!
انھوں نے مزید نے کہا: "میں سن رہا ہوں کہ لوگ کہتے ہیں میری کارکردگی اچھی نہیں ہے؛ میں واقعی سب سے نچلے درجے پر ہوں۔"
یہاں تک کہ حال ہی میں یوکرین میں امن مذاکرات کرانے کی اپنی خواہش کو بھی انھوں نے "جنت میں جانے کی امید" سے جوڑ دیا اور کہا: "اگر میں جنت جا سکوں تو اس کی ایک سبب یوکرین میں قیام امن ہوگا!!"
گوکہ یہ اعتراف، ہماری توجہ کے لائق ہے؛ لیکن یہ بھی درست ہے کہ ٹرمپ کی عمومی شخصیت، ایک ماسک اور نقاب ہے جو فیصلے، فنا پذیری، اور بعد از مرگ زندگی کے بارے میں ان کے گہرے عدم تحفظ کو چھپا دیتا ہے۔ شاید ہمارے صدر ٹرمپ کے بارے میں سب سے افسوسناک بات یہ ہو کہ وہ سمجھتے ہیں کہ خدا کی بارگاہ میں داخل ہونا ایک ایسی چیز ہے جسے وہ خرید سکتے ہیں؛ گویا یہ محض ایک نیا سودا، ایک نئی لین دین اور پیسے کی ایک نئی آمد و رفت (Transaction) ہے! میں دعا کرتا ہوں کہ ان کی زندگی کے باقی حصے میں انہیں کوئی روحانی استاد مل جائے جو انہیں سکھا سکے۔ سرمایہ داری نے اس شخص کی اخلاقی حقائق کے ادراک کی صلاحیت ختم کر دی ہے۔
بش اور چینی (George W. Bush & Dick Cheney) کے دور میں امریکی حکومت اور میڈیا مشینری نے 11 ستمبر کی سرکاری روایت کو اجتماعی دماغ شوئی (Brainwashing) کے ایک طاقتور ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔ بہت سے نوجوان مرد اور خواتین نے خود کو افغانستان اور عراق میں جنگ کی خاطر بھرتی کے لئے پیش کیا؛ اور آپ کے ملک (ایران) کو خونریز جنگوں میں گھیر لیا۔ یہ سب جھوٹی کہانیوں کی بنیاد پر تھا؛ جیسے تباہی پھیلانے والے ہتھیار یا "11 ستمبر کی رپورٹ۔" لیکن ہمیں متحد ہوکر پُراعتماد ہونا چاہئے کیونکہ یہ پردہ اٹھ رہا ہے۔ یہاں تک کہ ایک دیرینہ قدامت پسند، ٹکر کارلسن، نے 11 ستمبر کی حقیقتوں پر پانچ حصوں پر مشتمل ایک دستاویزی فلم بنائی ہے۔ جب انہوں نے ماضی میں 11 ستمبر کے محققین پر حملوں کے لئے برسر عام معافی مانگی تو میرے منہ سے حیرت سے چیخ نکل گئی؛ اس شخص کی حمایت کی جانی چاہئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ